ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روسی۔امریکی جنگی طیارے فضا میں تصادم سے بال بال بچ گئے

روسی۔امریکی جنگی طیارے فضا میں تصادم سے بال بال بچ گئے

Thu, 08 Sep 2016 16:25:21    S.O. News Service

ماسکو ،8؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بحیرہ اسود کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود میں بدھ کے روز ایک روسی جنگی طیارہ امریکی بحریہ کے ایک ہوائی جہاز کے خطرناک حد تک قریب آ گیا۔ ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے۔آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے جمعرات آٹھ ستمبر کو موصولہ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی دفاعی اہلکاروں کے مطابق اس واقعے میں بحیرہ اسود کے علاقے میں بین الاقوامی فضائی حدود میں بدھ سات ستمبر کے روز ایک روسی فائٹر جیٹ امریکی بحریہ کے ایک ہوائی جہاز کے اس قدر خطرناک حد تک قریب آ گیا کہ دونوں طیاروں کا درمیانی فاصلہ بہت ہی کم رہ گیا تھا۔ایک امریکی دفاعی اہلکار نے نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ یہ روسی جنگی طیارہ SU-27Flankerطرز کا تھا، جس نے امریکی نیوی کے P-8A Poseidonطرز کے ایک ہوائی جہاز کا فضا میں پیچھا کیا اور یہ انتہائی خطرناک عمل 19منٹ تک جاری رہا۔امریکی حکام کے بقول امریکی بحریہ کا طیارہ اس وقت فضا میں اپنی معمول کی نگران پرواز پر تھا اور ایک وقت تو ایسا بھی آ گیا تھا کہ دونوں طیاروں کے درمیان صرف تین میٹر کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا۔ڈی پی اے کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا بہت کم دیکھنے میں آنے والا ایک ایسا واقعہ تھا، جس کا نتیجہ فضا میں ان دونوں طیاروں کے درمیان تصادم کی صورت میں بھی نکل سکتا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق روس اور امریکا اگرچہ اپنے فوجی طیاروں کی پروازوں کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ معمول کے رابطے میں رہتے ہیں تاہم یہ ایک ایسی غیر محفوظ کوشش تھی، جو باعث تشویش ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس واقعے میں روسی اور امریکی طیاروں کے مابین ایک وقت پر صرف تین میٹر فاصلہ باقی رہ گیا تھا
ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے اس اہلکار نے مزید کہا، ایسے واقعات ممکنہ طور پر ایسے حالات کی وجہ بن سکتے ہیں کہ ماسکو اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہو جائے۔ ان واقعات کے نتیجے میں کسی بھی وقت کوئی جان لیوا حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔ادھر ماسکو میں روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے اس واقعے کی تصدیق تو کی ہے لیکن کہا ہے کہ روسی جنگی طیارے کے پائلٹ نے نہ تو کوئی اشتعال انگیزی کی اور نہ ہی کسی قانون کی خلاف ورزی۔ روسی پائلٹ کا رویہ اور اقدام بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھے۔ایگور کوناشینکوف نے مزید کہا، امریکی بحریہ کے ہوائی جہاز نے اپنی الیکٹرانک شناخت کو ممکن بنانے والے آلات سوئچ آف کرنے کے بعد دو مرتبہ دانستہ طور پر روسی فضائی حدود کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ اس پر کریمیا کے ایک فضائی اڈے پر موجود روسی جنگی طیاروں کو اس امریکی ہوائی جہاز کو روکنے کے لیے یہ اقدام کرنا پڑا۔


Share: